اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ہمارا فیصلہ موجود ہے،وقت بتایا جائے کب تک مذاکرات ہو سکتے ہیں، وقت کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی
سیاسی جماعتوں کے مذاکرات ناکام ہوئے تو عدالت 14 مئی کے فیصلے کو لیکر بیٹھی نہیں رہے گی،عدالت نے اپنے فیصلے پر آئین کے مطابق عمل کرنا ہے،آئین کے مطابق اپنے فیصلے پر عمل کرانے کیلئے آئین استعمال کرسکتے ہیں،
حکومتی وکیل فاروق ایچ نائیک کی سرزنش
آپ کی طرف سے کبھی آئینی قانونی نقطہ رکھا ہی نہیں گیا، آپ سیاست کرتے ہیں، ہم آپ کی سیاست کا جواب نہیں دیں گے، ہم خاموش ہیں، کیونکہ جب ہم غصہ کریں گے تو انصاف نہیں کر سکیں گے لیکن ہم نے آئین کے تحفظ کا اللہ کے حضور حلف بھی اٹھا رکھا یے
قوم کے جوان ملک کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں ہم بھی قانون پر عملدرآمد کیلئے قربانی دینے کو تیار ہیں
عدالت تحمل مظاہرہ کر رہی ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،ہماری اور اسمبلی میں ہونےوالی گفتگو جائزہ لیں، اسکا لیول دیکھیں، 23 فروری کا معاملہ شروع ہوا تو آپ نےانگلیاں اٹھائیں، آئینی کارروائی کو حکومت نے سنجیدہ نہیں لیا

