کیا ایک ایسے شخص، جو گزشتہ چند ماہ کے دوران دو قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنا،کے طور پر میں شہبازشریف سےدرج ذیل سوالات پوچھنے کی جسارت کرسکتاہوں ؛ 1۔ بطور پاکستانی شہری کیا مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں ان لوگوں کو نامزد کروں جو میرے خیال کےمطابق مجھ پر قاتلانہ حملے کے ذمہ دار تھے؟مجھےمقدمےکے اندراج کےآئینی و قانونی حق سے کیوں محروم کیا گیا؟
۔ کیا شہبازشریف کی ٹویٹ کا مطلب یہ ہےکہ فوجی افسران قانون سےبالاتر ہیں یا وہ کسی جرم کا ارتکاب نہیں کر سکتے؟ اگر ان میں سےکسی کےبارےمیں ہمارا خیال یہ ہےکہ اس نےکوئی جرم کیا ہے تواس سے ادارہ کیسے بدنام ہوتا ہے؟
کون اتناطاقتورتھاکہ پنجاب میںپی ٹی آئی کی حکومت کے باوجود وزیر آبادجی آئی ٹی کو سبوتاژ کر سکتا یے
کیاشہبازشریف بتاسکتےہیں کہ 18مارچ کو میری پیشی سے پہلے والی شام آئی ایس آئی نےاسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر کیوں پوری طرح قبضہ کرلیا؟ آئی ایس آئی کے لوگوں نے سی ٹی ڈی اور وکلاء کا روپ کیوں دھار رکھا تھا؟
آئی ایس آئی کےلوگوں کی وہاں موجودگی کا مقصدکیاتھا اور انکا جوڈیشل کمپلیکس میں کام ہی کیا تھا؟
اگر شہباز شریف ان سوالات کےسچ پر مبنی جوابات دیں سکیں تو ان سب سےایک ہی طاقتورشخص+اس کےساتھیوں کاسراغ ملےگا جو سب قانون سےبالاتر ہیں۔
چنانچہ وقت آگیا ہے کہ ہم باضابطہ اعلان کریں کہ پاکستان میں محض جنگل ہی کا قانون رائج ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول کارفرماہے

